بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز استسقاء کس طرح پڑھی جائے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل باب: نماز استسقاء کس طرح پڑھی جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1522 سنن نسائی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، أَبِيهِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1507 (حسن)»
وضاحت
۱؎: یہاں نفی قید کی ہے، مقید کی نہیں جیسا کہ اس پر وہ احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں خطبہ کی تصریح ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن