بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل باب: گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1480 سنن نسائی
مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، مَرْوَانَ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ، قال: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَةً، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَةً , قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ , خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے (نماز کا) حکم دیا تو «الصلاة جامعة» (نماز باجماعت پڑھی جائے گی) کی منادی کرائی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی (پہلی رکعت میں) آپ نے دو رکوع اور ایک سجدہ کیا ۱؎، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر آپ نے (دوسری رکعت میں بھی) دو رکوع اور ایک سجدہ کیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی اتنا لمبا رکوع نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی اتنا لمبا سجدہ کیا۔ محمد بن حمیر نے مروان کی مخالفت کی ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الکسوف 3 (1045)، 8 (1051)، صحیح مسلم/الکسوف 5 (910)، (تحفة الأشراف: 8963)، مسند احمد 2/175، 220 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہاں سجدہ سے مراد مکمل ایک رکعت ہے، کیونکہ کسی بھی نماز میں ایک سجدہ کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ ایک رکعت دو رکوع کے ساتھ پڑھی۔ ۲؎: یہ مخالفت سند اور متن دونوں میں ہے، سند میں مخالفت یہ ہے کہ مروان کی روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا واسطہ ہے، اور محمد بن حمیر کی روایت میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کی جگہ ابوطعمہ کا واسطہ ہے، اور متن میں مخالفت یہ ہے کہ مروان کی روایت میں سجدہ کا لفظ آیا ہے، اور محمد بن حمیر کی روایت میں اس کی جگہ سجدتین کا لفظ آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1481 سنن نسائی
يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، ابْنُ حِمْيَرَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي طُعْمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي طُعْمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ , وَكَانَتْ عَائِشَةُ , تَقُولُ: مَا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجُودًا , وَلَا رَكَعَ رُكُوعًا أَطْوَلَ مِنْهُ , خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکوع کیے، اور دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکوع اور دو سجدے کیے، پھر سورج سے گرہن چھٹ گیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی سجدہ اور کوئی رکوع ان سے لمبا نہیں کیا۔ علی بن مبارک نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8965) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: علی بن مبارک نے اسے مسند عائشہ میں سے قرار دیا ہے، اور معاویہ بن سلام نے مسند عبداللہ بن عمرو میں سے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح