بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جمعہ میں امام کے منبر پر ہونے کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل باب: جمعہ میں امام کے منبر پر ہونے کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1400 سنن نسائی
وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ ، أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيِ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 238 (1118)، (تحفة الأشراف: 5188)، مسند احمد 4/188، 190 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ اس صورت میں ہے جب اگلی صفوں میں خالی جگہ نہ ہو لیکن اگر لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ رکھی ہو تو گردنیں پھلانگ کر جانا درست ہو گا، یا یہ اس وقت کے ساتھ خاص ہے جب امام منبر پر بیٹھا ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح