بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1380 سنن نسائی
مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، الْوَلِيدِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهُمْ ذَكَرُوا غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يَسْكُنُونَ الْعَالِيَةَ فَيَحْضُرُونَ الْجُمُعَةَ وَبِهِمْ وَسَخٌ , فَإِذَا أَصَابَهُمُ الرَّوْحُ سَطَعَتْ أَرْوَاحُهُمْ فَيَتَأَذَّى بِهَا النَّاسُ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَوَ لَا يَغْتَسِلُونَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قاسم بن محمد ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمعہ کے دن کے غسل کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: لوگ «عالیہ» میں رہتے تھے، تو وہ وہاں سے جمعہ میں آتے تھے، اور ان کا حال یہ ہوتا کہ وہ میلے کچیلے ہوتے، جب ہوا ان پر سے ہوتے ہوئے گزرتی تو ان کی بو پھیلتی، تو لوگوں کو تکلیف ہوتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ لوگ غسل کر کے نہیں آ سکتے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17469)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 16 (903)، البیوع 15 (2071)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (847)، سنن ابی داود/الطہارة 130 (352) نحوہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «عالیہ» شہر مدینہ سے جنوب مشرق میں جو آباد یاں تھیں انہیں «عالیہ» (یا عوالی) کہا جاتا تھا، آج بھی انہیں عوالی کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1381 سنن نسائی
أَبُو الْأَشْعَثِ ، يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ كِتَابًا , وَلَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَةَ إِلَّا حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور یہ خوب ہے ۱؎ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو ان کی کتاب سے روایت کیا ہے، کیونکہ حسن نے سمرہ سے سوائے عقیقہ والی حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں سنی ہے ۲؎ واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطھارة 130 (354)، سنن الترمذی/الصلاة 240 (الجمعة 5) (497)، (تحفة الأشراف: 4587)، مسند احمد 5/8، 11، 15، 16، 22، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1581) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «فبہا» کا مطلب ہے «فبالرخصۃ أخذ» یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور «نِعْمَتْ» کا مطلب «نعمت ہی الرخصۃ» ہے یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے عدم وجوب پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ ایک تو اس میں وضو کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے ترک غسل کی اجازت نکلتی ہے۔ ۲؎: صحیح بخاری میں حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی حسن بصری کی سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایات موجود ہیں، اس بابت اختلاف ہے، مگر علی بن المدینی اور امام بخاری کی ترجیح یہی ہے کہ حسن بصری نے حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح