مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، الْوَلِيدِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهُمْ ذَكَرُوا غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يَسْكُنُونَ الْعَالِيَةَ فَيَحْضُرُونَ الْجُمُعَةَ وَبِهِمْ وَسَخٌ , فَإِذَا أَصَابَهُمُ الرَّوْحُ سَطَعَتْ أَرْوَاحُهُمْ فَيَتَأَذَّى بِهَا النَّاسُ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَوَ لَا يَغْتَسِلُونَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قاسم بن محمد ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمعہ کے دن کے غسل کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: لوگ «عالیہ» میں رہتے تھے، تو وہ وہاں سے جمعہ میں آتے تھے، اور ان کا حال یہ ہوتا کہ وہ میلے کچیلے ہوتے، جب ہوا ان پر سے ہوتے ہوئے گزرتی تو ان کی بو پھیلتی، تو لوگوں کو تکلیف ہوتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ لوگ غسل کر کے نہیں آ سکتے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17469)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 16 (903)، البیوع 15 (2071)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (847)، سنن ابی داود/الطہارة 130 (352) نحوہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «عالیہ» شہر مدینہ سے جنوب مشرق میں جو آباد یاں تھیں انہیں «عالیہ» (یا عوالی) کہا جاتا تھا، آج بھی انہیں ”عوالی“ کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح