بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جمعہ کے دن غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل باب: جمعہ کے دن غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1378 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 161 (858)، الجمعة 2 (879)، 12 (895)، الشھادات 18 (2665)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (846)، سنن ابی داود/الطھارة 129 (341)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1089)، موطا امام مالک/الجمعة 1 (4)، (تحفة الأشراف: 4161)، مسند احمد 3/6، 60، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1578، 1579) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جمعہ کی نماز کے لیے غسل شروع میں واجب تھا، جو بعد میں منسوخ ہو گیا، دیکھئیے حدیث رقم: ۱۳۸۰، ۱۳۸۱۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1379 سنن نسائی
حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، بِشْرٌ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ غُسْلُ يَوْمٍ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان شخص پر ہر سات دن میں ایک دن کا غسل ہے، اور وہ جمعہ کا دن ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، مسند احمد 3/304، (تحفة الأشراف: 2706) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره