بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز سے سلام پھیر کر مقتدیوں کی طرف پلٹنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل باب: نماز سے سلام پھیر کر مقتدیوں کی طرف پلٹنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1360 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، السُّدِّيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي؟ , قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سدی (اسماعیل بن عبدالرحمٰن) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے داہنے اور بائیں سلام پھیر کر کیسے پلٹوں؟ تو انہوں نے کہا: رہا میں تو میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 7 (708)، (تحفة الأشراف: 227)، مسند احمد 3/133، 179، 217، 280، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1391، 1392) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1361 سنن نسائی
أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ , لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کوئی خود سے شیطان کا کوئی حصہ نہ کرے کہ غیر ضروری چیز کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے، اور داہنی طرف ہی سے پلٹنے کو اپنے اوپر لازم کر لے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 159 (852)، صحیح مسلم/المسافرین 7 (707)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1042)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 33 (930)، (تحفة الأشراف: 9177)، مسند احمد 1/383، 429، 464، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1390) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1362 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بَقِيَّةُ ، الزُّبَيْدِيُّ ، مَكْحُولًا ، مَسْرُوقَ بْنَ الْأَجْدَعِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ , أَنَّ مَكْحُولًا حَدَّثَهُ، أَنَّ مَسْرُوقَ بْنَ الْأَجْدَعِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا , وَيُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا , وَيَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، اور ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ سلام پھیر نے کے بعد (کبھی) اپنے دائیں طرف پلٹتے، اور (کبھی) اپنے بائیں طرف۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، مسند احمد 6/87، (تحفة الأشراف: 17652) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح الإسناد