بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجنے کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1296 سنن نسائی
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، سُلَيْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالَ:" إِنَّهُ جَاءَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا , وَلَا يُسَلِّمَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، اور آپ کے چہرے پر خوشی و مسرت جھلک رہی تھی، آپ نے فرمایا: یہ (خوشی اس لیے ہے کہ) میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، اور کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ کے لیے یہ خوشی کا باعث نہیں کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا تو میں اس پر دس بار درود بھیجوں گا، اور جو کوئی آپ کے امتیوں میں سے آپ پر سلام بھیجے گا میں تو اس پر دس بار سلام بھیجوں گا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1284 (حسن) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ’’سلیمان‘‘ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 1297 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک (مرتبہ) صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا اللہ اس پر دس مرتبہ صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 17 (408)، سنن ابی داود/الصلاة 361 (1530)، سنن الترمذی/الصلاة 235 (الوتر 20) (485)، (تحفة الأشراف: 13974)، مسند احمد 2/37، 373، 375، 485، سنن الدارمی/الرقاق 58 (2814) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1298 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اوپر ایک بار صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا، تو اللہ اس پر دس بار صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا، اور اس کے دس گناہ معاف اور دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، مسند احمد 3/102، 261، (تحفة الأشراف: 244) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح