قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ , فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ , كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں، تو لوگ (بھی) آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز مکمل کر لی، اور ہم آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1178 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح