بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز میں کھکھارنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل باب: نماز میں کھکھارنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1212 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، جَرِيرٌ ، الْمُغِيرَةِ ، الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ:" كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةٌ آتِيهِ فِيهَا , فَإِذَا أَتَيْتُهُ اسْتَأْذَنْتُ إِنْ وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَتَنَحْنَحَ دَخَلْتُ , وَإِنْ وَجَدْتُهُ فَارِغًا أَذِنَ لِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہو جاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الأدب 17 (3708)، (تحفة الأشراف: 10202)، مسند احمد 1/77، 80، 107، 150 (ضعیف الإسناد) (عبداللہ بن نجی کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3708) مسند احمد (1/ 80 ح 608) فى سماع عبد الله بن نجي من على رضي اللّٰه عنه نظر. والحديث الآتي (1214 وسنده حسن) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 1213 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، مُغِيرَةَ ، الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ ، ابْنِ نُجَيٍّ ، عَلِيٌّ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنِ ابْنِ نُجَيٍّ , قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ:" كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ: مَدْخَلٌ بِاللَّيْلِ , وَمَدْخَلٌ بِالنَّهَارِ , فَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ بِاللَّيْلِ تَنَحْنَحَ لِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا (اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1212 (ضعیف الإسناد) (سند میں انقطاع ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی کھنکھار کر اندر آنے کی اجازت دیتے، اور بعض نسخوں میں «تنحنح» کے بجائے «سبّح» ہے، اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ کھنکھارنا عدم اجازت کی علامت تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی دو ہیئت رہی ہو ایک اجازت پر دلالت کرتی رہی ہو، اور دوسری عدم اجازت پر، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3708) مسند احمد (1/ 80 ح 608) فى سماع عبد الله بن نجي من على رضي اللّٰه عنه نظر. والحديث الآتي (1214 وسنده حسن) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 1214 سنن نسائی
الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، شُرَحْبِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ ، أَبِيهِ ، عَلِيٌّ
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ:" كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ , فَكُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ , فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي , وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10292)، مسند احمد 1/85 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”نجی“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف الإسناد