بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اٹھنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل باب: اٹھنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1156 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ" كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے تھے، تو جب جب جھکتے اور اٹھتے «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب وہ سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتے: قسم اللہ کی، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 115 (785)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (392)، (تحفة الأشراف: 15247)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (19)، مسند احمد 2/236، 502، 527 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1157 سنن نسائی
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَسَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" فَلَمَّا رَكَعَ كَبَّرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ حِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا" وَاللَّفْظُ لِسَوَّارٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب انہوں نے رکوع کیا تو اللہ اکبر کہا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر سجدہ کیا تو «اللہ اکبر» کہا، اور سجدہ سے اپنا سر اٹھایا تو «اللہ اکبر» کہا، پھر جس وقت رکعت پوری کر کے کھڑے ہوئے تو «اللہ اکبر» کہا، پھر کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نماز میں ازروئے مشابہت تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہوں، برابر آپ کی نماز ایسے رہی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے، یہ الفاظ «سّوار» کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 128 (803)، سنن ابی داود/الصلاة 140 (836)، (تحفة الأشراف: 14864)، مسند احمد 2/270، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1283) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح