هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، قال: كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ فَقَالَ: سَلْنِي، قُلْتُ: مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ قَالَ:" فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا، تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو“، میں نے کہا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے علاوہ اور بھی کچھ؟“ میں نے عرض کیا: بس یہی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 43 (489)، سنن ابی داود/فیہ 312 (1320)، سنن الترمذی/الدعوات 27 (3416)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3879)، (تحفة الأشراف: 3603)، مسند احمد 4/57، 58، 59 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی کثرت سے سجدے کیا کرو اس لیے کہ نماز کی عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، شاید تمہاری کثرت سجود سے مجھے تمہارے لیے اپنی رفاقت کی سفارش کا موقع مل جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح