سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي ”اے اللہ! ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے“ کہہ رہے تھے، آپ قرآن کی عملی تفسیر فرما رہے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1048، (تحفة الأشراف: 17635) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «فسبح بحمد ربک» ”آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے“ آپ اسی حکم کی تعمیل میں یہ دعا پڑھ رہے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح