بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل باب: رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1071 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ۱؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوتر 7 (1003)، المغازي 28 (4094)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، تحفة الأشراف: 1650)، مسند احمد 3/116، 204، والحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، الجنائز 40 (1300)، الجھاد 9 (2801)، 19 (2814)، 184 (3064)، الجزیة 8 (3170)، المغازي 28 (4088، 4092)، (4094، 4096)، الدعوات 58 (6394)، الاعتصام 16 (7341)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1443)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1184)، مسند احمد 3/113، 115، 166، 167، 180، 184، 191، 204، 217، 232، 249، 261، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1637) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: رعل، ذکوان اور عصیّہ تینوں قبائل کے نام ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قراء کو دھوکہ سے قتل کر دیا تھا، آپ نے ان پر ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی تھی، جو رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے، یہ وتر والی قنوت نہیں تھی، وتر والی قنوت میں تو افضل یہ ہے کہ رکوع سے پہلے پڑھی جائے، جائز رکوع کے بعد بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح