عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي حَصِينٍ ، يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ اللَّيْلَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ" لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ مِنْ آلِ حم".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھ ڈالی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم «حمٓ» سے اخیر قرآن تک مفصل کی صرف بیس ہم مثل سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9586) (صحیح الإسناد)»
وضاحت
۱؎: وہ سورتیں یہ ہیں «الرحمن» اور «النجم» کو ایک رکعت میں، «اقتربت» اور «الحاقہ» کو ایک رکعت میں «الذاریات» اور «الطور» کو ایک رکعت میں «الواقعۃ» اور «نون» کو ایک رکعت میں، «سأل» اور «والنازعات» کو ایک رکعت میں «عبس» اور «ویل للمطففین» کو ایک رکعت میں «المدثر» ، اور «المزمل» کو ایک رکعت میں، «ہل أتی» اور «لا أقسم» کو ایک رکعت میں، «عم یتسألون» اور «المرسلات» کو ایک رکعت میں، اور «والشمس کورت» اور «الدخان» کو ایک رکعت میں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد