بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: «قل ھو اللہ أحد» پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: قرآن میں سجدوں کا بیان باب: «قل ھو اللہ أحد» پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 994 سنن نسائی
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، ابْنِ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ فَعَلَ ذَلِكَ فَسَأَلُوهُ" فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا، اور قرأت «‏قل هو اللہ أحد» پر ختم کرتا تھا، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ ان لوگوں نے ان سے پوچھا: انہوں نے کہا: یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/توحید 1 (7375)، صحیح مسلم/المسافرین 45 (813)، (تحفة الأشراف: 17914) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 995 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يقول: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ {3} وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ {4} سورة الإخلاص آية 1-4 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: الْجَنَّةُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد‏» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2897)، (تحفة الأشراف: 14127)، موطا امام مالک/القرآن 6 (18)، مسند احمد 2/302، 535، 536 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 996 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد» پڑھتے سنا، وہ اسے باربار دہرا رہا تھا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ تہائی قرآن کے برابر ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/فضائل القرآن 13 (5013)، الأیمان والنذور 3 (6643)، التوحید 1 (7374)، سنن ابی داود/الصلاة 353 (1461)، (تحفة الأشراف: 4104)، موطا امام مالک/القرآن 6 (17)، مسند احمد 3/23، 35، 43 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعض علماء نے اس کی توضیح اس طرح کی ہے کہ علوم قرآن کی تین قسمیں ہیں، ایک توحید، دوسری تشریع، اور تیسری اخلاق، ان میں سے پہلی قسم توحید کا جامع بیان اس سورت میں موجود ہے اس لیے اسے ثلث قرآن کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 997 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، امْرَأَةٍ ، أَبِي أَيُّوبَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ امْرَأَةٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا أَعْرِفُ إِسْنَادًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2896)، (تحفة الأشراف: 3502)، مسند احمد 5/418، 419، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3480) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح