إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، أَبُو نَعَامَةَ الْحَنَفِيُّ ، ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو نَعَامَةَ الْحَنَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ إِذَا سَمِعَ أَحَدَنَا يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 يقول:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل کے بیٹے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ جب ہم میں سے کسی سے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے ہوئے سنتے تو کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے نہیں سنا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 909]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الصلاة 66 (244)، سنن ابن ماجہ/إقامة 4 (815)، (تحفة الأشراف: 9667)، مسند احمد 4/85 و 5/54، 55 (ضعیف) (بعض ائمہ نے ”ابن عبداللہ بن مغفل‘ کو مجہول قرار دے کر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ حافظ مزی نے ان کا نام ’’یزید‘‘ لکھا ہے، اور حافظ ابن حجر نے ان کو ’’صدوق‘‘ کہا ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی زور سے پڑھتے نہیں سنا، نہ کہ بالکل پڑھتے ہی نہیں تھے (دیکھئیے پچھلی دونوں حدیثیں)۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف