بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز دونوں ہاتھ کانوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام باب: نماز دونوں ہاتھ کانوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 880 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ: آمِينَ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی اے اللہ اسے قبول فرما ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11763)، مسند احمد 4/318، سنن الدارمی/الصلاة 35 (1277)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (724) (بدون ذکر آمین)، سنن ابن ماجہ/إقامة 14 (855)، (بدون ذکر رفع الیدین)، مسند احمد 4/315 (بدون ذکر رفع الیدین)، 316 (بدون ذکر آمین) 318 (بتمامہ)، وانظر حدیث وائل من غیر طریق عبدالجبار عن أبیہ عند: صحیح مسلم/الصلاة 15 (401)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (723)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (867)، مسند احمد 4/316، 317، 318، 319 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعض روایتوں میں «یرفع بہا صوتہ» کے بجائے «یخفض بہا صوتہ» ہے، لیکن محدثین اسے وہم قرار دیتے ہیں، گو بعض فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن محدثین کے مقابلہ میں فقہاء کی ترجیح کی کوئی حیثیت نہیں، اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ عبدالجبار بن وائل کا سماع ان کے والد وائل رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت عبدالجبار کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، اور صحیح ہے، (دیکھئیے تخریج)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 881 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ ، مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے (تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے)۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 9 (391)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (745)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (859)، (تحفة الأشراف: 11184)، مسند احمد 3/436، 437، 5/53، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1286)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1025، 1057، 1086، 1087، 1088، 1144 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 882 سنن نسائی
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى حَاذَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور جس وقت آپ نے رکوع کیا اور جس وقت رکوع سے اپنا سر اٹھایا (تو بھی انہیں آپ نے اٹھایا) یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کی کانوں کی لو کے بالمقابل ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لیے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع یدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح