بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امام نماز کتنی ہلکی پڑھے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: امامت کے احکام و مسائل باب: امام نماز کتنی ہلکی پڑھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 824 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں، اور جب کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 62 (703)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 127 (794)، موطا امام مالک/الجماعة 4 (13)، (تحفة الأشراف: 13815)، مسند احمد 2/256، 271، 317، 393، 486، 502، 537 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 825 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں میں سب سے ہلکی اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 37 (469)، سنن الترمذی/الصلاة 61 (237)، (تحفة الأشراف: 1432)، مسند احمد 3/170، 173، 179، 231، 234، 276، 279، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1295) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ایسی ہلکی نہیں ہوتی تھی جس سے نماز کے ارکان کی ادائیگی میں کوئی خلل اور نقص واقع ہو، قیام و قعود اور رکوع و سجود وغیرہ ارکان میں اتمام فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 826 سنن نسائی
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأُوجِزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور بچوں کا رونا سنتا ہوں تو اپنی نماز ہلکی کر دیتا ہوں، اس ڈر سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 65 (707)، 163 (868)، سنن ابی داود/الصلاة 126 (789)، سنن ابن ماجہ/إقامة 49 (991)، (تحفة الأشراف: 12110)، مسند احمد 5/305 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح