بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امام صفیں کیسے درست کرے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: امامت کے احکام و مسائل باب: امام صفیں کیسے درست کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 811 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ الصُّفُوفَ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ فَأَبْصَرَ رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صفیں درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کئے جاتے ہیں، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم اپنی صفیں ضرور درست کر لیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فر مادے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (436)، سنن ابی داود/الأذان 94 (663، 665)، سنن الترمذی/الصلاة 53 (227)، سنن ابن ماجہ/إقامة 50 (994)، (تحفة الأشراف: 11620)، مسند احمد 4/270، 271، 272، 276، 277 (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا، مطلب ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا جس کی وجہ سے تمہارے اندر تفرق و انتشار عام ہو جائے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے اس کے حقیقی معنی مراد ہیں یعنی تمہارے چہروں کو گدّی کی طرف پھیر کر انہیں بدل اور بگاڑ دے گا۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 812 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، مَنْصُورٍ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ:" لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ۱؎ صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے: اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں ۳؎ نیز فرماتے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 94 (664)، (تحفة الأشراف: 1776)، مسند احمد 4/285، 296، 297، 298، 299، 304، سنن الدارمی/الصلاة 49 (1299) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی انہیں درست کرتے ہوئے۔ ۲؎: یعنی آگے پیچھے نہ کھڑے ہو۔ ۳؎: یعنی ان میں پھوٹ پڑ جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح