بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نمازی پر کھڑے ہو جانے کے بعد امام کو یاد آئے کہ وہ ناپاک ہے تو کیا کرے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: امامت کے احکام و مسائل باب: نمازی پر کھڑے ہو جانے کے بعد امام کو یاد آئے کہ وہ ناپاک ہے تو کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 793 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، وَالْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَالْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ" وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطِفَ رَأْسُهُ فَاغْتَسَلَ وَنَحْنُ صُفُوفٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی، تو لوگوں نے اپنی صفیں درست کیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجرے سے نکل کر نماز پڑھنے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوئے، پھر آپ کو یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے ۱؎ تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: تم اپنی جگہوں پر رہو، پھر آپ واپس اپنے گھر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 25 (639، 640)، صحیح مسلم/المساجد 29 (605)، سنن ابی داود/الطھارة 94 (235)، الصلاة 46 (541)، (تحفة الأشراف: 15200)، مسند احمد 2/237، 259، 283، 338، 339 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ آپ نے ابھی نماز شروع نہیں کی تھی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح