قُتَيْبَةُ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، بِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قال: مَرَّ عُمَرُ، بِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ أَنْشَدْتُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ"؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، تو عمران رضی اللہ عنہ کی طرف گھورنے لگے، تو انہوں نے کہا: میں نے (مسجد میں) شعر پڑھا ہے، اور اس میں ایسی ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (مجھ سے) یہ کہتے نہیں سنا کہ ”تم میری طرف سے (کافروں کو) جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرما!“، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا! ہاں (سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 68 (453)، بدء الخلق 6 (3212)، الأدب 91 (6152)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 34 (2485)، سنن ابی داود/الأدب 95 (5013، 5014) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3402)، مسند احمد 5/222، وفی الیوم واللیلة (171) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح