بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل باب: مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 699 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد قباء (کبھی) سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل جاتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 97 (1399)، موطا امام مالک/السفر 23 (71)، (تحفة الأشراف: 7239)، مسند احمد 2/5، 30، 57، 58، 65 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صحیحین کی روایت میں ہے کہ آپ ہر ہفتہ مسجد قباء آتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 700 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيِّ ، أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَبِي
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيِّ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قال: قال أَبِي: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ كَانَ لَهُ عَدْلَ عُمْرَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (اپنے گھر سے) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/إقامة 197 (1412)، (تحفة الأشراف: 4657)، مسند احمد 3/487 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح