بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اذان سننے کے بعد کی دعا کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: اذان کے احکام و مسائل باب: اذان سننے کے بعد کی دعا کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 680 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثِ ، الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن (کی اذان) سن کر یہ کہا: «وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 7 (386)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (525)، سنن الترمذی/الصلاة 42 (210)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (721)، (تحفة الأشراف: 3877)، مسند احمد 1/181، فی الیوم واللیلة (73) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 681 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، شُعَيْبٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «اللہم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته إلا حلت له شفاعتي يوم القيامة» اے اللہ! اس کامل پکار اور قائم رہنے والی صلاۃ کے رب! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وسیلہ ۱؎ اور فضیلت ۲؎ عطا فرما، اور مقام محمود ۳؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ۴؎ تو قیامت کے دن اس پر میری شفاعت نازل ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 8 (614)، تفسیر الإسراء 11 (4719)، سنن ابی داود/الصلاة 38 (529)، سنن الترمذی/الصلاة 43 (211)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (723)، (تحفة الأشراف: 3046)، وفی الیوم واللیلة (46) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلی درجہ کا نام ہے۔ ۲؎: فضیلت وہ اعلی مرتبہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوق پر حاصل ہو گا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔ ۳؎: مقام محمود یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطا کرے گا، اور اسی جگہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ شفاعت عظمی فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہو گا۔ ۴؎: بیہقی کی روایت میں اس دعا کے بعد «إنك لا تخلف الميعاد» کا اضافہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، اسی طرح اس دعا کے پڑھتے وقت کچھ لوگ «یا ا ٔرحم الراحمین» کا اضافہ کرتے ہیں، اس اضافہ کا بھی کتب حدیث میں کہیں وجود نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح