أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ:" أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے امام ہو (لیکن) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ۱؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (987)، (تحفة الأشراف: 9770)، مسند احمد 4/21 (217، 218)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 37 (468) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح