بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اقامت کیسے کہے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: اذان کے احکام و مسائل باب: اقامت کیسے کہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 669 سنن نسائی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ ، حَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، أَبَا جَعْفَرٍ ، أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ ، ابْنَ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قال: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَذَانِ، فَقَالَ:" كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ «قد قامت الصلاة» کہتے تو اسے دو بار کہتے، چنانچہ جب ہم «قد قامت الصلاة» سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 629 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایسا بعض لوگ اور کبھی کبھی کرتے تھے، پھر بھی آپ کی لمبی قراءت کے سبب جماعت پا لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح