قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، ابْنِ هُبَيْرَةَ ، أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ، قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا، وَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مخمص ۱؎ میں عصر پڑھائی، اور فرمایا: ”یہ نماز تم سے پہلے جو لوگ گزرے ان پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا، جو اس پر محافظت کرے گا اسے دہرا اجر ملے گا، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ «شاہد» طلوع ہو جائے ۲؎، «شاہد» ستارہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/صلاة المسافرین 51 (830)، (تحفة الأشراف: 3445)، مسند احمد 6/396، 397 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مخمص ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: سورج ڈوبنے کے تھوڑی دیر بعد ہی شاہد طلوع ہوتا ہے، مصنف نے اس سے مغرب کی تاخیر پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے ظاہر ہے، یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ مغرب کی تعجیل نصوص سے ثابت ہے یہ ایک اجماعی مسئلہ ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح