بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل باب: سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 501 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (402)، سنن الترمذی/الصلاة 5 (157)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 4 (677)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 7 (28)، (تحفة الأشراف: 13226)، مسند احمد 2/229، 238، 256، 266، 348، 377، 393، 400، 411، 462، سنن الدارمی/الصلاة 14 (1243)، والرقاق 119 (2887)، وعن طریق أبی سلمة بن عبدالرحمن عن أبی ہریرة، (تحفة الأشراف: 15237) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جمہور علماء نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے، یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے اس لیے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو اور احتیاط کرو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 502 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، أَبِي ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَفْصٌ ، عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمَ ، يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي مُوسَى
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَأَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، يَرْفَعُهُ، قال:" أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ الَّذِي تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کر رہے ہو یہ جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8983) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ثابت بن قیس نخعی‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، يزيد بن أوس تابعه أبو زرعة بن عمرو بن جرير عند تمام الرازي (الفوائد: 455) والسند إليه صحيح ولكن ثابت ابن قيس النخعي الكوفي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده وللحديث شواهد دون قوله: ’’الذي تجدون‘‘ وللحديث لون الآخر فى جزء على بن محمد الحميري (بتحقيقي: 12) وسنده ضعيف،. وحديث البخاري (537) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324
الحكم: صحيح لغيره