يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، خَبَّابٍ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قال:" شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا". قِيلَ لِأَبِي إِسْحَاقَ: فِي تَعْجِيلِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (تیز دھوپ سے) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ۱؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا: (یہ شکایت) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، (اسی سلسلہ میں تھی)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 33 (619)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 3513)، مسند احمد 5/108، 110 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ظہر تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی، جیسا کہ مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح