كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمْعِ عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا، وَيَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز تمہاری تنہا نماز سے پچیس گنا فضیلت رکھتی ہے ۱؎ رات اور دن کے فرشتے نماز فجر میں اکٹھا ہوتے ہیں، اگر تم چاہو تو آیت کریمہ «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ۲؎ پڑھ لو“ (الاسراء: ۲۸)۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: 13259)، کلہم مقتصرا إلی قولہ ’’خمس وعشرین جزائ‘‘ إلا البخاری وأحمد (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں ۲۵ گنا کا ذکر ہے، اور صحیحین کی ایک روایت میں ۲۷ گنا وارد ہے، اس کی توجیہ اس طرح کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۲۵ گنا بتایا گیا پھر ۲۷ گنا، تو جیسے جیسے آپ کو بتایا گیا آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اسی طرح بتلایا، اور بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ کمی و بیشی صلاۃ کے خشوع وخضوع اور صلاۃ کی ہیئت و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح