بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پانچوں نمازوں پر بیعت کرنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: پانچوں نمازوں پر بیعت کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 461 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، أَبُو مُسْهِرٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، قال: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَدَّدَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَدَّمْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ بَايَعْنَاكَ، فَعَلَامَ؟ قَالَ:" عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً أَنْ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کر لی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الزکاة 35 (1043) مطولاً، سنن ابی داود/الزکاة 27 (1642) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الجہاد 41 (2867) مطولاً، (تحفة الأشراف: 10919) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح