بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نیند کی وجہ سے وضو کا حکم۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل باب: نیند کی وجہ سے وضو کا حکم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 442 سنن نسائی
عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن مسیب کہتے ہیں: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے، یہاں تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پر پانی ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطہارة19(24)، سنن ابن ماجہ/الطہارة40(393)، (تحفة الأشراف 13189) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 443 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، دَاوُدُ ، عَمْرٍو ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ وَرَقَدَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مُخْتَصَرٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں (جا کر) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا، اور نماز ادا کی، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا (اس نے آپ کو جگایا) تو آپ نے (جا کر) نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 5 (138)، 36 (183)، والأذان 58 (698)، 77 (726)، 161 (859)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الصلاة57(232)، سنن ابن ماجہ/الطہارة48(423)، مسند احمد 1/220، 234، 244، 283، 230 ویأتي عند المؤلف برقم: 678، ویأتی عند المؤلف برقم: 807، (تحفة الأشراف 6356)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 316 (1364) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 444 سنن نسائی
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَرْقُدْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اونگھے تو وہ لوٹ جائے، اور (جا کر) سو جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 53 (213)، مسند احمد 3/100، 142، 150، 250، (تحفة الأشراف 953) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ نیند کے غلبہ سے اس کا وضو ٹوٹ سکتا ہے، اور نماز باطل ہو سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح