مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوِ الْحِلَابِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو دودھ دوہنے کے برتن ۱؎ کی طرح ایک برتن منگاتے، اور اس سے اپنے لپ سے پانی لیتے اور اپنے سر کے داہنے حصہ سے شروع کرتے، پھر بائیں سے، پھر اپنے دونوں لپ سے پانی لیتے، اور انہیں سے اپنے سر پر ڈالتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 6 (258)، صحیح مسلم/الحیض 9 (318)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (240)، (تحفة الأشراف 17447) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «حلاب» بروزن کتاب ایک برتن ہے جس میں دودھ دوہا جاتا ہے، خطابی نے کہا: «حلاب» وہ برتن ہے جس میں ایک اونٹنی کا دودھ سما جائے، یہی مشہو رہے، زہری نے کہا: «جُلاب» جیم معجمہ کے ضمہ اور لام کی تشدید کے ساتھ اس سے مراد گلاب ہے یعنی سر میں خوشبو لانے کے لیے آپ گلاب منگواتے، امام بخاری کے ترجمۃ الباب سے یہی معنی مطابقت رکھتا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ لفظ حائے مہملہ کے کسرہ کے ساتھ «حلاب» ہے جس کے معنی طرف کے ہیں مراد خوشبو کا طرف ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح الإسناد