بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 406 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، النُّفَيْلِيُّ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، يَعْلَى
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ «حلیم» بردبار، «حیی» باحیاء اور «ستر» پردہ پوشی پسند فرمانے والا ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحمام 2 (4012)، (تحفة الأشراف 11845)، مسند احمد 4/224 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 407 سنن نسائی
أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سِتِّيرٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل «ستر» پردہ پوشی کرنے والا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحمام4(4013)، (تحفة الأشراف 11840)، مسند احمد 4/223 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 408 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، عَبِيدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت:" وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً، قَالَتْ: فَسَتَرْتُهُ فَذَكَرَتِ الْغُسْلَ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں (لینا) چاہا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 409 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي ، إِبْرَاهِيمُ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَيُّوبُ عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَاتِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے ۱؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: ایوب! کیا میں نے تمہیں بے نیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں میرے رب! لیکن تیری برکتوں سے میں بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 20(279) تعلیقاً، والأنبیاء 20(3391)، والتوحید 35 (7493)، (تحفة الأشراف 14224)، مسند احمد 2/314 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ غسل انہوں نے ایسی جگہ پر کیا ہو گا جہاں وہ لوگوں کی نگاہوں سے مامون و محفوظ رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح