مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، جَرِيرٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مُرْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انہیں حکم دو کہ غسل کر لیں، اور احرام باندھ لیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ حیض یا نفاس کا آ جانا احرام کے لیے مانع نہیں ہے، جس عورت کو اس قسم کا عارضہ پیش آ جائے وہ غسل کر کے احرام باندھ لے، اور طواف کے علاوہ باقی سارے ارکان ادا کرے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح