عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قالت: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ" كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا حائضہ اپنی نماز قضاء کرے گی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ (خارجیہ) ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حائضہ ہوتی تھیں، تو نہ ہم قضاء کرتے اور نہ ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحیض20 (321)، صحیح مسلم/فیہ 15 (335)، سنن ابی داود/الطھارة 105 (262)، سنن الترمذی/فیہ 97 (130)، سنن ابن ماجہ/فیہ 119 (631)، (تحفة الأشراف 17964)، مسند احمد 6/32، 94، 97، 120، 143، 185، 231، /الطھارة 102، 1020، 1021، 1028 ویأتي عند المؤلف في الصوم 36 (برقم 2320) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: خوارج کا ایک گروہ ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ حروراء کی طرف منسوب ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے، ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضاء کرے گی، اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کو ان لوگوں سے تشبیہ دی۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح