سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَوْفٍ ، أَبِي رَجَاءٍ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) ”مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/التیمم 6 (344)، 9 (348)، (تحفة الأشراف 10876)، مسند احمد 4/ 334 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح