مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، أَبُو السَّمْحِ
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سمح رضی اللہ عنہ (خادم النبی) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بچی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 12052)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 137 (376)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (526) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایک روایت میں «مالم یطعم» (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لیے جو روایتیں مطلق ہیں، انہیں مقید پر محمول کیا جائے گا یعنی دونوں کے پیشاب میں یہ تفریق اس وقت تک کے لیے ہے جب تک وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، کھانا کھانے لگ جانے کے بعد دونوں کے پیشاب کا حکم یکساں ہو گا، دونوں کا پیشاب دھونا ضروری ہو جائے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح