بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حالت حیض میں جماع سے اللہ عزوجل کی ممانعت جان لینے کے بعد جو شخص اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا باب: حالت حیض میں جماع سے اللہ عزوجل کی ممانعت جان لینے کے بعد جو شخص اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 290 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مُقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي" الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے، اور وہ حائضہ ہو کہ وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطھارة 106 (264)، النکاح 48 (2168)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 123 (640)، (تحفة الأشراف: 6490)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 103 (137)، مسند احمد 1/229، 237، 272، 286، 312، 325، 363، 367، سنن الدارمی/الطھارة 112 (1146، 1147)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 9، (برقم: 370) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ جب وہ بیوی سے شروع حیض میں جماع کرے تو ایک دینار صدقہ کرے، اور جب خون بند ہو جانے پر جماع کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہاں نوعیت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ راوی کا تردد ہے، واضح رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (264) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
الحكم: صحيح