إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِثٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِثٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» (البقرہ: ۲۲۲) ”لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: وہ گندگی ہے“ نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحیض 3 (302)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (258)، النکاح 47 (2165)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2977)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 125 (644)، (تحفة الأشراف: 308)، مسند احمد 3/132، 246، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1093)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 8، باتم مما ھنا (برقم: 369) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح