حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، حُمَيْدٌ ، بَكْرٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَانْسَلَّ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ان سے ملے، اور وہ اس وقت جنبی تھے، تو وہ چپکے سے نکل گئے، اور (جا کر) غسل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نہیں پایا، تو جب وہ آئے، تو آپ نے پوچھا ”ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! آپ اس حالت میں ملے تھے کہ میں جنبی تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ بغیر غسل کئے آپ کے ساتھ بیٹھوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! ۱؎ مومن ناپاک نہیں ہوتا“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 23 (283)، 24 (285)، صحیح مسلم/الحیض 29 (371)، سنن ابی داود/الطھارة 92 (231)، سنن الترمذی/فیہ 89 (121)، سنن ابن ماجہ/فیہ 80 (534)، (تحفة الأشراف: 14648)، مسند احمد 2/235، 282، 471 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ جملہ کہہ کر ان کے ایسا کرنے اور مومن کے نجس ہونے کا عقیدہ رکھنے پر آپ نے تعجب کا اظہار کیا۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح