بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کئی عورتوں سے جماع کرنے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا باب: کئی عورتوں سے جماع کرنے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 264 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک رات ایک ہی غسل سے اپنی بیویوں کے پاس گئے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطھارة 85 (218)، (تحفة الأشراف: 568) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: (یعنی ان سب سے صحبت کی اور اخیر میں غسل کیا) ممکن ہے ایسا آپ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہو جانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے کیا ہو، یا یہ کہ آپ کے لیے یہ خاص ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 265 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی (سبھی) بیویوں کے پاس ایک ہی غسل میں جاتے (جماع کرتے) تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطھارة 106 (140)، سنن ابن ماجہ/فیہ 101 (588)، (تحفة الأشراف: 1336)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (309)، مسند احمد 3/161، 185 (صحیح) ولفظ البخاري من ھذا الطریق: ”کان یطوف علی نسائہ في الساعة الواحدة وفي روایة: في اللیلة الواحدة‘‘ (وبدون ذکر الغسل) (الغسل 12 (268)، 24 (284)، وانکاح 4 (5068)، 102 (5215)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح