يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَشْهَبُ ، مَالِكٍ ، ابْنَ شِهَابٍ ، وَهِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا أَشْهَبُ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، وَهِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ حَدَّثَاهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِالْعُمْرَةِ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، لَمْ يَرْوِهِ أَحَدٌ إِلَّا أَشْهَبُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر میں مکہ پہنچی تو حائضہ ہو گئی، تو میں نہ خانہ کعبہ کا طواف کر سکی، نہ صفا و مروہ کے بیچ سعی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرہ چھوڑ دو“، چنانچہ میں نے (ایسا ہی) کیا، تو جب ہم نے حج پورا کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا (وہاں سے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئی اور) میں نے عمرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے اس عمرہ کی جگہ ہے“ (جو حیض کی وجہ سے تجھ سے چھوٹ گیا تھا)۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ کے واسطے سے مالک کی یہ حدیث غریب ہے، مالک سے یہ حدیث صرف اشہب نے ہی روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«حدیث مالک عن بن شہاب أخرجہ، صحیح البخاری/18 (319)، الحج 31 (1556)، 77 (1638)، المغازي 77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/فیہ 23 (1781)، (تحفة الأشراف: 16591)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 38 (3000)، موطا امام مالک/ الحج 74 (223)، مسند احمد 6/ 86، 164، 168، 169، 77ا، 191، 246، وحدیث مالک عن ہشام بن عروة، تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17175)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2765 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح