مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَاصِمٍ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءِ وَاحِدٍ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، حَتَّى يَقُولَ: دَعِي لِي، وَأَقُولُ أَنَا: دَعْ لِي". قَالَ سُوَيْدٌ: يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، فَأَقُولُ: دَعْ لِي، دَعْ لِي.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، (کبھی) آپ مجھ سے سبقت کر جاتے، اور کبھی میں آپ سے سبقت کر جاتی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: ”میرے لیے چھوڑ دو“، اور میں کہتی: میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحیض 10 (321)، (تحفة الأشراف: 17969)، مسند احمد 6/91، 103، 118، 123، 161، 171، 172، 193، 235، 265، ویأتي عند المؤلف برقم: 414 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح