بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: شوہر اور بیوی کے ایک برتن سے غسل کرنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا باب: شوہر اور بیوی کے ایک برتن سے غسل کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 233 سنن نسائی
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْتَسِلُ وَأَنَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور میں (دونوں) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم دونوں اس سے لپ سے ایک ساتھ پانی لیتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16976، 17174)، موطا امام مالک/الطہارة 17 (28) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح خ م دون الاغتراف واللفظ لقتيبة
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح خ م دون الاغتراف واللفظ لقتيبة
حدیث نمبر: 234 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 9 (263)، (تحفة الأشراف: 71493)، مسند احمد 6/172 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 235 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنِي" أُنَازِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِنَاءَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (پانی کے) برتن کے سلسلہ میں جھگڑ رہی ہوں (میں اپنی طرف برتن کھینچ رہی ہوں اور آپ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں) میں اور آپ (ہم دونوں) اسی سے غسل کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحیض 5 (299) مطولاً، سنن ابی داود/الطہارة 39 (77)، (تحفة الأشراف: 15983)، مسند احمد 6/189، 191، 192، 210 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 236 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (دونوں) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«أنظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 15983) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 237 سنن نسائی
يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، عَمْرٍو ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةُ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَخْبَرَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، أَنَّهَا كَانَتْ" تَغْتَسِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحیض10 (322)، سنن الترمذی/الطھارة 46 (62)، سنن ابن ماجہ/فیہ 35 (377)، (تحفة الأشراف: 18067)، مسند احمد 6/329 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 238 سنن نسائی
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ ، نَاعِمٌ ، أُمَّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَاعِمٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ؟ قالت: نَعَمْ، إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةً" رَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهُمَا، ثُمَّ نُفِيضَ عَلَيْهَا الْمَاءَ". قَالَ الْأَعْرَجُ: لَا تَذْكُرُ فَرْجًا وَلَا تَبَالَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ناعم نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ کیا بیوی شوہر کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، جب سلیقہ مند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک لگن سے غسل کرتے تھے، ہم اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے یہاں تک کہ انہیں صاف کر لیتے، پھر اپنے بدن پر پانی بہاتے۔ اعرج ( «كيّسة» کی تفسیر کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ سلیقہ مند وہ ہے جو نہ تو شوہر کے ساتھ غسل کرتے وقت شرمگاہ کا خیال ذہن میں لائے، اور نہ بیوقوفی (پھوہڑپن) کا مظاہرہ کرے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 18215)، مسند احمد 6/323 (صحیح الاسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد