بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مرد و عورت کے ختنے مل جانے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا باب: مرد و عورت کے ختنے مل جانے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 191 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد، اس (عورت) کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 28 (291)، صحیح مسلم/الحیض 22 (348)، سنن ابی داود/الطہارة 84 (216)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 111 (610)، (تحفة الأشراف: 14659)، مسند احمد 2/234، 347، 393، 471، 520، سنن الدارمی/الطہارة 75 (788) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: شاخوں کے درمیان بیٹھے اس سے مراد عورت کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں یا دونوں پیر اور دونوں ران ہیں، اور ایک قول ہے کہ اس کی شرمگاہ کے چاروں اطراف مراد ہیں۔ پھر کوشش کرے کوشش کرنے سے کنایہ دخول کی جانب ہے، یعنی عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ میں داخل کر دے۔ غسل واجب ہو جاتا ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ غسل کے وجوب کا دارومدار دخول پر ہے اس کے لیے انزال شرط نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 192 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ الْجَوْزَجَانِيُّ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ، عَنْ شُعْبَةَ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَغَيْرُهُ، كَمَا رَوَاهُ خَالِدٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کی چاروں شاخوں کے بیچ بیٹھے، پھر کوشش کرے، تو غسل واجب ہو گیا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اشعث کا ابن سیرین کے طریق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا غلط ہے، صحیح یہ ہے کہ اشعث نے اسے بواسطہ حسن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، نیز یہ حدیث بواسطہ شعبہ نضر بن شمیل وغیرہ سے بھی مروی ہے جیسا کہ اسے خالد نے روایت کی ہے، یعنی: بطریق «قتادة عن الحسن، عن أبي رافع، عن أبي هريرة» ۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 14405) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح