بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: چہرہ دھونے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: وضو کا طریقہ باب: چہرہ دھونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 92 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قال: أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِهِ وَقَدْ صَلَّى مَا يُرِيدُ إِلَّا لِيُعَلِّمَنَا،" فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ بِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ هَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبد خیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نماز پڑھ چکے تھے، مگر آپ نے وضو کا پانی طلب کیا، ہم لوگوں نے (دل میں یا آپس میں) کہا: وہ اسے کیا کریں گے؟ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں، (ایسا کر کے) وہ ہمیں صرف سکھانا چاہتے ہوں گے، چنانچہ ایک برتن جس میں پانی تھا، اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھویا، پھر جس ہتھیلی سے پانی لیتے تھے اسی سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرہ تین بار دھویا، اور دایاں ہاتھ تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ تین بار اور اپنے سرکا ایک بار مسح کیا، پھر دایاں پیر تین بار دھویا، اور بایاں پیر تین بار دھویا، پھر کہنے لگے: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 92]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح