بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 45 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، النَّضْرُ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ أَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ مَعِي نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ ہی جیسا ایک لڑکا دونوں پانی کا برتن لے جا کر رکھتے، تو آپ پانی سے استنجاء فرماتے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 45]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 15 (150)، 16 (150)، 17 (152)، الصلاة 93 (500)، صحیح مسلم/الطہارة 21 (271)، سنن ابی داود/فیہ 23 (43)، (تحفة الأشراف: 1094)، مسند احمد 3/112، 171، 203، 259، 284، سنن الدارمی/الطہارة 15 (702، 703) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 46 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قالت:" مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 46]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطہارة 15 (19)، (تحفة الأشراف: 17970)، مسند احمد 6/113، 114، 120، 130، 171، 236 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح