بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پیشاب کرنے والے کو سلام کرنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ باب: پیشاب کرنے والے کو سلام کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 37 سنن نسائی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، وَقَبِيصَةُ ، سُفْيَانُ ، الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 37]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحیض 28 (370)، سنن ابی داود/الطہارة 8 (16)، سنن الترمذی/فیہ 67 (90)، الاستئذان 27 (2720)، سنن ابن ماجہ/فیہ 27 (353)، (تحفة الأشراف: 7696) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: سلام کا جواب نہیں دیا کا مطلب ہے فوری طور پر جواب نہیں دیا بلکہ وضو کرنے کے بعد دیا، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بطور تادیب سرے سے سلام کا جواب ہی نہ دیا ہو۔ «قال الألباني: (صحيح دون قوله: فإن عامة الوسواس منه» ‏‏‏‏۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: حسن صحيح