بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مونچھ کو خوب کترنے اور داڑھیوں کو چھوڑ دینے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ باب: مونچھ کو خوب کترنے اور داڑھیوں کو چھوڑ دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 15 سنن نسائی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مونچھوں کو خوب کترو ۱؎، اور داڑھیوں کو چھوڑے رکھو ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 15]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الطہارة 16 (259)، (تحفة الأشراف: 8177)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 64 (5892)، 65 (5893)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4199)، سنن الترمذی/الأدب 18 (2763)، ط: الشعر 1 (1)، مسند احمد 2/16، 52، 157 یہ حدیث مکرر، دیکھئے: 5048، 5228)، «ولفظہ عند أبي داود ومالک: أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحی» (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «أحفو» کے معنی کاٹنے میں مبالغہ کرنے کے ہیں۔ ۲؎: داڑھی کے لیے صحیحین کی روایتوں میں پانچ الفاظ استعمال ہوئے ہیں: «اعفوا، أو فوا، أرخو» اور «وفروا» ان سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی: داڑھی کو اپنے حال پر چھوڑے رکھو، البتہ ابن عمر اور ابوہریرہ وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک مٹھی کے بعد زائد بال کو کاٹا کرتے تھے، جب کہ یہی لوگ «إعفاء اللحیۃ» کے راوی بھی ہیں، گویا کہ ان کا یہ فعل لفظ «إعفائ» کی تشریح ہے، اسی لیے ایک مٹھی کی مقدار بہت سے علماء کے نزدیک فرض ہے اس لیے ایک مٹھی سے کم کی داڑھی خلاف سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح