بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 982 — باب: قیام اور قرأت کو ہلکا کرنے کا بیان۔
کتب سنن نسائی ابواب: قرآن میں سجدوں کا بیان باب: قیام اور قرأت کو ہلکا کرنے کا بیان۔ حدیث 982
قُتَيْبَةُ ، الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قال: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ:" صَلَّيْتُمْ" قُلْنَا:" نَعَمْ" قَالَ:" يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِي وَضُوءًا مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا" قَالَ زَيْدٌ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَيُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: بیٹی! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز تمہارے اس امام ۱؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتی ہو، زید کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدے مکمل کرتے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 840)، مسند احمد 3/162، 163، 254، 255، 259 (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت
۱؎: اس سے مراد خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح لغيره
← پچھلی حدیث (981) باب پر واپس اگلی حدیث (983) →